ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہشت گردی اور فسادات کے ذریعے اقتدار حاصل کیاجارہا ہے؛ معروف سماجی کارکن رام پنیانی کا بھٹکل میں خطاب

دہشت گردی اور فسادات کے ذریعے اقتدار حاصل کیاجارہا ہے؛ معروف سماجی کارکن رام پنیانی کا بھٹکل میں خطاب

Mon, 17 Apr 2017 17:00:00    S.O. News Service

بھٹکل 17/اپریل (ایس او نیوز)  ملک میں دہشت گردی ہوتی نہیں ہے، کرائی جاتی ہے، فسادات ہوتے نہیں ہیں، کرائے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ اقتدار حاصل کرنے اور سیاسی طور پرفائدہ اُٹھانے کے لئے کئے جاتے ہیں؛ یہ بات معروف سماجی کارکن، سماجی فلاسفر، مصنف اور سابق پروفیسر ڈاکٹر رام پنیانی نے کہی ۔ملک میں بھائی چارگی بڑھانے اور ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی قائم کرنے کے لئے آگے آنے والے رام پنیانی جنہیں سن 2006 میں اندرا گاندھی قومی ایکتا ایوارڈ سے نوازا گیا،   اتوار کی شام بھٹکل نوائط کالونی تنظیم گرائونڈ میں عوامی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

ڈاکٹر پنیانی نے کہا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے ایک ساتھ چالیس پچاس مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اوربعد میں پولس نے اپنی ہی پیٹھ تپتھپائی کہ ہم نے بم دھماکوں کا کیس حل کرلیا ہے اور دہشت گردوں کو پکڑ لیا ہے، مگر بعد میں یہی نوجوان ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر بے قصورثابت  ہوکر رہا ہوئے، بھٹکل کے نوجوانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا، مگر ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ دہشت گردی ہو یا فرقہ وارانہ فسادات ہوں، یہ ہوتے نہیں ہیں ، بلکہ سیاسی مفاد کے خاطر اسے کرایا جاتا ہے۔ مسٹر پنیانی کے مطابق ملک میں مسلمانوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا، جیلوں میں ڈال کر اُن کی زندگیاں برباد کی گئیں،  کیرئیر ختم کیا گیا، مگر ان واقعات سے مسلمانوں کو ڈرنا نہیں چاہئے بلکہ مسلمانوں کو اپنے اچھے اخلاق اور دینی اُصولوں کی بنیاد پر دنیا کواور سماج کو  دکھانا چاہئے کہ اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بھٹکل کے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں چاہوں گا کہ جن نوجوانوں کو پکڑا گیا ہے، جن کی زندگیاں برباد کی جارہی ہیں، آپ لوگ اُن کی مدد کریں۔

 آر ایس ایس کا نام نہ لیتے ہوئے ڈاکٹر پنیانی نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وہ 90 سالوں سے چوبیسوں گھنٹے ہفتے میں سات دن، بارہ مہینے  کام کرتے رہے اور ہم اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہم کو آزادی ملی ہے، چلو گھر جاکر آرام کرو، وہ  ملک کے مسلمانوں کے خلاف اور عیسائیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے رہے، تاریخ کو توڑ مروڑ کر لوگوں کے دلوں میں نفرت کے بیچ بوتے رہے، جس کی بنیاد  پر آج  لوگوں کے  دماغ اتنے  زہر آلود ہوچکے ہیں کہ ہم اپنی صحیح بات اُن تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں، ہماری لکھی ہوئی کتابیں کام نہیں کررہی ہیں۔

ڈاکٹر پنیانی نے اپنے تجربات اور مختلف ریسرچ کی بنیاد پر کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی فسادات ہوتے ہیں، آنے والے دنوں میں اُن جگہوں پر وہی پارٹی انتخابات جیت لیتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہی فسادات کروائے جاتے ہیں۔آج  پانی سر سے اتنا اوپر چڑھ چکا ہے کہ اس کافوری تدارک ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو آواز دی کہ وہ سوشیل میڈیا کےذریعے سچائی کو دور دور تک پھیلائیں۔ انہوں نے بھٹکل کے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر آپ طالب العلم ہیں، کاروبار سےمنسلک ہیں، گلف میں رہتے ہیں یا کسی اور پیشہ سے منسلک ہیں، آپ کو چاہئے کہ آپ اپنا تھوڑا وقت دیں سوشیل میڈیا کے ذریعے سچائیوں کو دور دور تک پھیلائیں، دوسروں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں، اپنا تھوڑا سرمایہ بھی اس کام میں لگائیں کہ لوگوں کے ذہنوں سے زہر ختم ہوجائے۔ سچ اُن کے سامنے لایا جائے۔ نفرت کون پھیلارہا ہے، دنگے کون کرارہے ہیں، ان سے کن لوگوں کو فائدہ ہورہا ہے، ان سب کی جانکاری دوسروں تک دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر پنیانی نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، مگر بھٹکل والوں کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں خوشحالی ہے، آپ لوگوں نے بہت زیادہ محنت کرکے پیسہ کمایا ہے، یہاں آپ نے اچھا خاصا اقتصادی ڈھانچہ تیار کیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے، صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے فائدہ پہنچائیں۔

 ڈاکٹر پنیانی کے مطابق ویسٹ ایشیاء میں دہشت گردی سب سے زیادہ  ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تیل کے کنوئوں کے بھنڈار ہیں اور یہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے، سب تیل کے لئے ہورہا ہے۔  انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا ہیڈا ٓفس واشنگٹن میں ہے، امریکہ نے ہی القاعدہ اور طالبان بنایا، کچھ مدرسوں کو استعمال کیا گیا،مسلم نوجوانوں کے برین واش کئے گئے، اُنہیں کہا گیا کہ کافروں کو مارنا جہاد ہے، کچھ مدرسوں پر حملے ہوئے، تعلیم برباد کی گئی۔مگراس سے بھی افسوس یہ کہ یہاں  انسانیت شرمسار ہوئی۔

انہوں نے سوال کیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہوتی ہے، سب سے زیادہ مارے جانے والے کون لوگ  ہیں ؟ پھر خود جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ مسلمان ہیں، پھر بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ دہشت گردی اسلام کی وجہ سے ہے،  انہوں نےپورے وثوق کے ساتھ کہا کہ  دہشت گردی اسلام کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ دہشت گردی کا دنیا کے کسی بھی مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔ یہ سیاسی پروسس ہے، دہشت گرد یا تو  وہ خود بنتے ہیں یا پھر سیاسی پارٹیاں ان کو کھڑا کرتی ہیں۔

ڈاکٹر رام پنیانی نے کہا کہ میں پہلے ہندو مسلمان کے بارے میں بالکل نہیں سوچتا تھا، میں سمجھتا تھا کہ مذہب میرا اور آپ کا نجی معاملہ ہے۔مگر6/ دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد  گرائی گئی، تب سمجھ میں آیا کہ مسجد کا گرانا یہ معمولی بات نہیں ہے یہ ہندو۔مسلمان کا مسئلہ نہیں ہے، یہ  تو  جمہوریت کو ختم کرنے کا معاملہ ہے، یہ تو بھارت کے دستور کو ختم کرنےکا معاملہ ہے، وہاں سے میں نے مطالعہ کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ فرقہ وارانہ فسادات ہوتے نہیں ہیں بلکہ کروائے  جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ  سماج میں نفرت کا زہر بویا جاچکا ہے، اور زہر بونے کے لئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے تاریخ کے کئی باب پیش کئے اور بتایا کہ مسلمان راجہ کے پاس ہندو وزیر اور ہندو راجہ کے پاس مسلم وزیر تھے۔انہوں نے آسان مثالیں پیش کرتے ہوئے یہ  ثابت کرنے کی کوشش کی راجہ مہاراجائوں کے دورمیں جو جنگیں ہوئیں وہ ہندوراجہ اور مسلمان راجہ کے نام نہیں ہوئیں، بلکہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہوئیں، مندروں کو صرف اس لئے لوٹاگیا کیونکہ مندروں میں خزانے ہوتے تھے۔ میسور کا مندر مراٹھا کے لوگوں نے اس لئے منہدم کیا کیونکہ میسور میں ٹیپو سلطان کی حکومت تھی اور ٹیپوسلطان سے ہار کا بدلہ لینا تھا، اور ٹیپو سلطان نے اُس مندر کوواپس اس لئے تعمیرکرایا کیونکہ اس کی سلطنت کے مندروں کی حفاظت اُس کی ذمہ داری تھی۔ مگر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کس طرح نفرت کے بیچ بوئے جارہے ہیں۔

مہاتما گاندھی اور مولانا ابوالکلام آزاد  کے تعلق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو جوڑنے کا کام کررہے تھے،  ڈاکٹر پنیانی نے کہا کہ موہن داس کرم چند گاندھی کا ہندو دھرم ایک ہے  اور گوڈسے کا ہندو دھرم دوسرا ہے۔گاندھی کا ہندو دھرم ایک دوسرے کو جوڑتا ہے، اور گوڈسے کا ہندو دھرم  گاندھی جیسے لوگوں کی ہتھیا کرتا ہے۔ ڈاکٹر پنیانی کے مطابق وہ ہتھیا صرف گاندھی جی کی نہیں ہوئی، بلکہ  اُن کےوچاروں کا قتل آج بھی الگ الگ روپ سے جاری ہے ۔ ڈاکٹر پنیانی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج گائے کا گوشت کھانے کے شک پر اور گائے کو ہاتھ لگانے کے نام پر لوگوں کو مارا جارہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب راجندر پرساد نے گئو ہتھیا پر پابندی کے تعلق سے بات کی تھی تو مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اس ملک میں سبھی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور سبھی مذاہب کی عادتوں، اُن کے اُصولوں، اُن کے وچاروں کی عزت کرنا یہ مجھے ہندو دھرم سکھاتا ہے۔اور آج اُسی ہندودھرم کے نام پر لوگ قتل پر قتل کررہے ہیں۔ گھرواپسی پر بھی ڈاکٹر پنیانی نے سوالات اُٹھائے اور بتایا کہ گاندھی اُن شادیوں میں جاتے تھے جہاں الگ الگ مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادیاں ہوتی تھیں۔

ڈاکٹر پنیانی نے تاریخ کے حوالوں سے کہا کہ ہندو راشٹر وادی اور مسلم راشٹر وادی آزادی کی جنگ میں شامل نہیں تھے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ یہ ملک سیکولر بن رہا ہے جو نہیں بننا چاہئے، اُن راشٹر وادیوں کا کہنا تھا کہ ہم کو انگریزوں کے خلاف  نہیں جانا ہے۔ مسلم لیگ، ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس ان تینوں نے انگریزوں کے خلاف نہیں جانے کا فیصلہ کیا تھا ، پنیانی نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج سب سے بڑے راشٹر وادی کا ٹھیکہ اُن لوگوں نے لے کر رکھا ہے جنہوں نے آزادی کی جنگ میں ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی جدوجہد نہیں کی اوریہ لوگ انگریزوں کی چمچاگیری کرتے رہے  تھے۔

پروگرام کا آغاز حافظ محمد اٰمین ذُھیب دامودی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری عبدالواجد کولا نے فیڈریشن کا تعارف پیش کیا، نہزان ائیکری نے استقبالیہ کلمات ادا کئے۔ پروگرام میں مولانا ابوالحسن  ندوی اسلامک  اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا الیاس جاکٹی ندوی،  بنگلور سے تشریف فرما معروف ماہر تعلیم ، صحافی اور بنگلور سے شائع ایک انگریزی ہفتہ وار کرناٹکا مسلم کے ایڈیٹر سید تنویر احمد اور بیدر سے  ہی تشریف فرما آئی اے ایس کوچر شاہدہاشمی  صاحب نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور نوجوانوں کی آگے بڑھنے کی طرف رہنمائی کی۔ ڈائس پر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر ایڈوکیٹ مزمل قاضیا بھی موجود تھے۔پروگرام کی کنوینر جاوید حُسین آرمار نے مہمانان کا تعارف پیش کیا۔فیڈریشن کے صدر امتیاز اُدیاور نے پروگرام کی صدارت کی، فیڈریشن کے سابق جنرل سکریٹری مولانا ایس ایم عرفان ندوی نے پروگرام کی نظامت کی۔ فیڈریشن کے رکن مُبشر حُسین ہلارے نے کلمہ تشکر پیش کیا۔ایک ہزار سے زائد لوگ پروگرام میں شریک تھے۔ 

پورے پروگرام کی وڈیو ریکارڈنگ ذیل میں دی گئی ہے۔

 


Share: